Native World News

چھوٹے کاروبار اور زرعی شعبے کےلیے قرض

چھوٹے کاروبار اور زرعی شعبے کےلیے قرض

پاکستان کے لیے ایس ایم ایز اور زراعت صرف اقتصادی شعبے نہیں، بلکہ پائیدار ترقی کے بنیادی ستون ہیں

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) اور زراعت پاکستان کی معیشت کے لیے دو بنیادی ستون ہیں۔ یہ دونوں شعبے نہ صرف بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ دیہی و شہری سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ان شعبوں کے لیے مالی معاونت میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ جس کی وجہ ریگولیٹری اقدامات، ہدفی مانیٹری پالیسی اور بینکوں کی جانب سے شریعہ کمپلائنٹ سلوشنز متعارف کرانا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں ایس ایم ایز فنانسنگ میں 41 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ زرعی قرض میں 15 فیصد نمو دیکھی گئی۔ یہ پیشرفت اس امر کی نشاندہی ہے کہ کم سہولت یافتہ شعبوں پر توجہ دی جارہی ہے اور معیشت گزشتہ برسوں کے مالی و اقتصادی دباؤ کے بعد مستحکم بحالی کی جانب گامزن ہے۔

زرعی قرض 2.58 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ہیں، جو نہ صرف قومی اہداف سے زائد ہیں بلکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.3 فیصد اضافے کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اس دوران زرعی قرضوں کا پورٹ فولیو 995.3 ارب روپے تک بڑھ گیا، جبکہ فعال قرض لینے والوں کی تعداد 2.9 ملین رہی۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے زرعی شعبے میں مالی شمولیت کے فروغ، قرضوں تک رسائی میں اضافہ اور کسانوں کے لیے مالیاتی سہولتوں کی فراہمی میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

ان بڑھتے ہوئے معاشی مواقعوں نے اسلامی مالیاتی اداروں خصوصاً اُن اداروں کو جو شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں وسیع رسائی رکھتے ہیں، حوصلہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے کاروباری ڈھانچے کو سہارا دینے کے لیے منظم اور موثر مالیاتی مصنوعات متعارف کرائیں۔ ان اداروں میں فیصل بینک نمایاں مقام رکھتا ہے، جو اسلامی طریقہ فنانسنگ پر مبنی قرض ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کو فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان میں ایس ایم ایز کو تین بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ورکنگ کیپٹل تک محدود رسائی، کاروبار کی توسیع (اسکیل ایبلٹی) میں رکاوٹیں اور ایسے فنانسنگ اسٹرکچرز کی کمی جو ان کے کاروباری اور آپریشنل سائیکل سے ہم آہنگ ہوں۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسلامی مالیات کے ذرائع جیسے مرابحہ، استصناع، تجارہ، سَلَم اور مشارکہ عملی اور مؤثر مالیاتی حل کے طور پر سامنے آئے ہیں، جو نہ صرف شریعت کے مطابق فنانسنگ فراہم کرتے ہیں بلکہ کاروباری ضروریات کے مطابق سہولت اور پائیدار ترقی کی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں۔

مرابحہ ایس ایم ایز کو خام مال، تیار اشیاء یا اسپیئر پارٹس کی خریداری میں سہولت فراہم کرتا ہے، جہاں لاگت کے ساتھ طے شدہ منافع پر فروخت کا واضح ڈھانچہ موجود ہے۔ اس کے ذریعے قلیل مدتی ورکنگ کیپٹل کی ضروریات شفاف انداز میں پوری کی جاسکتی ہیں۔

استصناع پاکستان کے مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبے کے لیے موزوں ہے کیونکہ یہ آرڈر کی بنیاد پر مستحکم فنانسنگ فراہم کرتا ہے جو پیداواری مراحل اور کاروباری سائیکل کے مطابق ادائیگیوں کا موثر نظام تشکیل دیتا ہے۔

تجارہ اور سَلَم (Salam) تاجروں، اجناس کے کاروبار سے وابستہ افراد، اور زرعی شعبے سے جڑی کمپنیوں کے لیے موثر حل ہیں، جہاں شریعہ کمپلائنٹ پیشگی ادائیگی یا موخر ادائیگی کے ذریعے کاروباری ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔

مشارکہ منافع و نقصان میں شراکت داری پر مبنی ایسا نظام ہے جس کے تحت ایس ایم ایز اپنی کاروباری ضروریات کے مطابق فنڈز نکال اور جمع کرا سکتے ہیں۔ اس طرح شفاف انداز میں شراکت داروں کے مفادات یکجا ہوجاتے ہیں۔

روایتی اسلامی فنانسنگ طریقوں کے ساتھ منظم سپلائی چین فنانس اور تجارتی مالیاتی پلیٹ فارمز بھی ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کورسپانڈنٹ بینکنگ تعلقات کے ذریعے اب کاروباری ادارے درآمد/ برآمدات کی مالی معاونت، ضمانتیں اور دستاویزی کریڈٹس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں جس سے انہیں ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں سے موثر انداز میں جڑنے میں مدد مل رہی ہے۔ زراعت، جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے اور غذائی تحفظ کی بنیاد بھی ہے، پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

ایس بی پی کے ایگریکلچر کریڈٹ ایکسپینشن پلانز کے تحت کسانوں کے لیے فنانسنگ تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جسے قومی پالیسی اقدامات، ڈیجیٹل کریڈٹ اسکورنگ اور رسک میٹیگیشن فریم ورک نے مزید مستحکم بنایا ہے۔ اسی پس منظر میں فیصل بینک نے فیصل خوشحال کسان اسکیم متعارف کرائی ہے، جو زرعی اور غیر زرعی دونوں سرگرمیوں کے لیے اسلامی فنانسنگ پر مبنی ایک جامع نظام ہے۔ اس اسکیم کے تحت فصلوں کی پیداوار، زمین کی ترقی، آبپاشی کے نظام، زرعی مشینری، مویشی پالنا، پولٹری، فشریز اور قابل تجدید توانائی کے حل، جیسے سولر ٹیوب ویل سمیت مختلف ضروریات کے لیے مالی سہولتیں شامل ہیں۔

رسائی کو بینک کے طریقہ کار میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ دیہی علاقوں میں شاخوں کے وسیع نیٹ ورک اور مشاورتی خدمات کے ذریعے کسان اپنے کاروباری مرکز کے قریب ہی فنانسنگ حاصل کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں درست فیصلے کرنے کے لیے رہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ فصلوں کے لیے موسمی ورکنگ کیپٹل پر مبنی کراپ فنانس، سائلوز، گوداموں اور آبپاشی جیسے منصوبوں کے لیے فارم ڈیولپمنٹ فنانس، اور ٹریکٹرز و ہارویسٹرز کے لیے مشینری فنانسنگ جیسی مخصوص سہولتیں اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ شریعہ کمپلائنٹ سلوشنز کس طرح روزمرہ زرعی سرگرمیوں میں مؤثر انداز میں استعمال ہو رہے ہیں۔

مزید برآں ”وسیلہ پاکستان“ جیسے ڈیجیٹل زرعی پلیٹ فارمز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید فریم ورک کے تحت شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ کے عمل کو تیز بنایا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کو بہتر لیکویڈٹی مینجمنٹ اور مارکیٹ تک مؤثر رسائی حاصل ہوتی ہے۔ مویشیوں اور پولٹری کے شعبے تک سہولتوں کا دائرہ بڑھانا، قابل تجدید توانائی کی فنانسنگ، اور کلائمیٹ اسمارٹ حل متعارف کرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ منظم اسلامی فنانس پورے زرعی شعبے پر مثبت اور وسیع اثرات مرتب کر رہا ہے۔ قومی ترجیحات کے مطابق مالیاتی ادارے بشمول فیصل بینک خواتین کے لیے مخصوص مالیاتی مصنوعات کو ایس بی پی کے ری فنانس اسکیموں کے تحت فعال طور پر متعارف کرارہے ہیں۔ یہ اقدامات صنفی شمولیت والے مالیاتی نظام کو مستحکم بناتے ہیں، جس سے خواتین کاروباری افراد اور کسانوں کو مساوی طور پر سرمایہ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے وسیع تر سماجی و اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالا جاتا ہے۔

پاکستان کے ایس ایم ایز اور زرعی شعبے اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جہاں مضبوط ادارہ جاتی معاونت، ریگولیٹری ہم آہنگی اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کیا جارہا ہے۔ اگر بینک جدت طرازی اقدامات کریں، شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ اسٹرکچر استعمال کریں اور کم سہولت یافتہ شعبوں تک رسائی بڑھائیں، تو مالی معاونت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ جو روزگار، پیداوار، اور دیہی و شہری معیشت کے روابط پر گہرے اور پائیدار اثرات مرتب کرے گا۔

پاکستان کے لیے ایس ایم ایز اور زراعت صرف اقتصادی شعبے نہیں، بلکہ پائیدار ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ فیصل بینک جیسے ادارے شریعہ کمپلائنٹ آسان اور قابل رسائی فنانسنگ سلوشنز فراہم کر کے نہ صرف فوری قرضہ جاتی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں بلکہ کاروباری جدت و ہنرکو فروغ دے رہے ہیں، مالیاتی استحکام لارہے ہیں اور قومی معیشت کی پائیداری میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected]پر ای میل کردیجیے۔

Source: https://www.express.pk/story/2813090/loans-for-small-businesses-and-the-agricultural-sector-2813090

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.