اسرائیلی وزیراعظم پر 3 مقدمات میں دھوکہ دہی، اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور رشوت لینے کے الزامات ہیں
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بدعنوانی کے مقدمات میں تقریباً 18 ماہ تک جاری رہنے والی سماعت میں خود کو جرح کے لیے پیش کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 98 عدالتی سماعتوں میں اپنا بیان ریکارڈ کرادیا اور استغاثہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے مقدمات کو سیاسی انتقام اور کردار کشی کی منظم مہم قرار دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بدھ کے روز اپنی آخری سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ گزشتہ دس سال ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے جہنم ثابت ہوئے ہیں۔
ان کے بقول تفتیش کاروں نے ان کے اہل خانہ، قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں سے بار بار پوچھ گچھ کی لیکن کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جو ان کے خلاف بدعنوانی ثابت کر سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ تفتیش کاروں نے جرم تلاش نہیں کیا بلکہ براہ راست مجھے نشانہ بنایا اور میرے خاندان کو ناقابلِ یقین ذہنی اذیت دی لیکن آخرکار انھیں کچھ نہیں ملا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف مقدمات کا مقصد انھیں اقتدار سے ہٹانا، سیاست سے باہر کرنا اور اسرائیلی عوام کو اپنی پسند کا رہنما منتخب کرنے سے روکنا تھا۔
نیتن یاہو پر کرپشن مقدمات کی تفصیلات
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر تین مختلف مقدمات میں دھوکہ دہی، اعتماد کی خلاف ورزی اور ایک مقدمے میں رشوت لینے کے الزامات عائد ہیں۔
اس مقدمے میں الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ہالی ووڈ کے معروف پروڈیوسر آرنون ملچن سے لاکھوں شیکل مالیت کے مہنگے تحائف وصول کیے جن میں سگار، قیمتی مشروبات اور دیگر تحائف شامل تھے۔ جس کے بدلے سرکاری سطح پر آرنون کو مختلف سہولتیں فراہم کیں۔
استغاثہ کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مالک آرنون موزیس کے ساتھ خفیہ معاہدہ کیا جس کے تحت اخبار میں مثبت کوریج کے بدلے حکومت کی جانب سے اس کے کاروباری حریف اخبار اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے لیے قانون سازی پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
کیس 4000:یہ سب سے سنگین مقدمہ ہے جس میں نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انھوں نے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی بیزیک کے مالک شاؤل ایلووچ کو کروڑوں شیکل کا مالی فائدہ پہنچانے کے لیے سرکاری فیصلے کیے جبکہ اس کے بدلے ایلووچ کی ملکیت نیوز ویب سائٹ والا (Walla) نے نیتن یاہو اور ان کے خاندان کے حق میں مثبت خبریں شائع کیں۔ اسی مقدمے میں ان پر رشوت لینے کا الزام بھی عائد ہے۔
اب مقدمہ کس مرحلے میں داخل ہوگا؟
استغاثہ پہلے ہی نیتن یاہو پر جرح مکمل کر چکا تھا جبکہ ان کے وکیل امیت حداد نے چند اہم نکات واضح کرنے کے لیے دوبارہ انہیں گواہی کے لیے طلب کیا تھا۔ بدھ کو دفاعی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کی گواہی مکمل ہو چکی ہے۔
اب مقدمے میں دفاع کے دیگر گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے جس کے بعد حتمی دلائل اور عدالتی فیصلہ آئے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس عمل میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
98 سماعتیں، متعدد التوا
نیتن یاہو نے پہلی مرتبہ 10 دسمبر 2024 کو عدالت میں گواہی دی تھی، تاہم دورانِ سماعت کئی مرتبہ ان کی بیماری، بیرون ملک سفارتی دوروں اور اسرائیل کی سکیورٹی صورتحال کے باعث سماعتیں ملتوی یا مختصر کی گئیں۔
وزیراعظم کی سیکیورٹی کے پیش نظر ان کی گواہی تل ابیب کی ضلعی عدالت میں ریکارڈ کی جاتی رہی کیونکہ یروشلم کی عدالت میں مطلوبہ حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔ اب مقدمے کی آئندہ کارروائی دوبارہ یروشلم منتقل کر دی جائے گی۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.