Native World News

تنخواہ آتے ہی سب خرچ نہ کریں! خواتین مالی آزادی کیسے حاصل کرسکتی ہیں؟

تنخواہ آتے ہی سب خرچ نہ کریں! خواتین مالی آزادی کیسے حاصل کرسکتی ہیں؟

مالی استحکام کا تعلق صرف زیادہ آمدنی سے نہیں بلکہ دستیاب رقم کو دانشمندی سے استعمال کرنے سے ہے

ماہ بھر کی محنت کے بعد جب تنخواہ اکاؤنٹ میں آتی ہے تو خریداری، پسندیدہ کھانوں، گھومنے پھرنے اور اپنی خواہشات پوری کرنے کا جذبہ فطری طور پر بڑھ جاتا ہے۔ تاہم مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ تنخواہ ملنے کے فوراً بعد کیے گئے چند سمجھدار فیصلے نہ صرف مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ خواتین کو معاشی خودمختاری اور ذہنی سکون بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مالی استحکام کا تعلق صرف زیادہ آمدنی سے نہیں بلکہ دستیاب رقم کو دانشمندی سے استعمال کرنے سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ملازمت پیشہ خاتون کو اپنی آمدنی کا باقاعدہ منصوبہ بنانا چاہیے تاکہ غیر ضروری اخراجات سے بچتے ہوئے بچت اور سرمایہ کاری کی عادت اپنائی جا سکے۔

سب سے پہلے ضروری اور مستقل اخراجات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ گھر کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز، قرضوں کی اقساط، راشن اور دیگر بنیادی ضروریات ایسی ادائیگیاں ہیں جنہیں مہینے کے آغاز میں ہی مکمل کر لینا چاہیے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ یہ اخراجات مجموعی آمدنی کے تقریباً 40 سے 50 فیصد کے اندر رہیں تاکہ باقی رقم کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔

اس کے بعد ہنگامی فنڈ کی تشکیل کو مالی منصوبہ بندی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ زندگی میں بیماری، ملازمت میں تبدیلی یا دیگر غیر متوقع حالات کسی بھی وقت سامنے آ سکتے ہیں، اس لیے تنخواہ کا 20 سے 30 فیصد حصہ باقاعدگی سے محفوظ کرنا ایک دانشمندانہ قدم سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر فرد کے پاس کم از کم چھ ماہ کے اخراجات کے برابر ایمرجنسی فنڈ موجود ہونا چاہیے۔

سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی خواتین کو حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ بڑی رقم کا انتظار کرنے کے بجائے چھوٹی رقم سے آغاز کریں۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر ماہ چند سو یا ایک ہزار روپے کی باقاعدہ سرمایہ کاری بھی طویل مدت میں قابلِ ذکر فوائد دے سکتی ہے۔ اصل اہمیت رقم کی مقدار سے زیادہ تسلسل اور مستقل مزاجی کی ہوتی ہے۔

دوسری جانب اپنی خوشیوں اور ذاتی ضروریات کے لیے بھی بجٹ مختص کرنا ضروری ہے۔ خریداری، سیر و تفریح، پسندیدہ کھانوں یا دیگر مشاغل کے لیے تنخواہ کا ایک مخصوص حصہ الگ رکھنے سے مالی نظم و ضبط برقرار رہتا ہے اور انسان بغیر کسی احساسِ جرم کے اپنی کمائی سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ بینک اکاؤنٹ میں کچھ اضافی رقم ہمیشہ موجود رہنی چاہیے تاکہ گھر کی مرمت، تحائف، انشورنس کی تجدید یا کسی اچانک خرچ کی صورت میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایسی مالی تیاری زندگی کو زیادہ پُرسکون اور منظم بنا دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مالی طور پر خود کفیل ہونا صرف پیسے جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ آزادی، خود اعتمادی اور تحفظ کا احساس بھی فراہم کرتا ہے۔ جب ایک خاتون اپنی آمدنی کو سمجھداری سے استعمال کرتی ہے تو وہ درحقیقت اپنے مضبوط اور محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہوتی ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2816910/dont-spend-everything-as-soon-as-you-get-paid-how-can-women-achieve-financial-freedom-2816910/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.