پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قرارداد پیش، مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دے دیا گیا
پی ٹی آئی نے قائمہ کمیٹیوں میں واپسی پر غور شروع کردیا، پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے فوری عملدرآمد کے لیے اہم قرارداد پیش کردی۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کے لیے قرارداد پارلیمنٹیرنز کے سامنے رکھ دی، اکثر پارلیمنٹیرنز نے قرارداد کی حمایت کی ، بانی چئیرمین عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کو مرکزی ترجیح قرار دے دیا گیا، قرارداد میں بانی چئیرمین کی صحت، سکیورٹی اور ذاتی معالج تک رسائی کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پارلیمان، عدالتوں اور عوامی فورمز پر بھرپور آواز اٹھانے کے لیے بھی قرارداد میں شق موجود ہے، قرارداد میں مہنگائی، بے روزگاری اور انسانی حقوق کے مسائل اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔
فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز کے خلاف قانونی و آئینی اقدامات پر بھی مشورہ دیا گیا۔ پارلیمانی کارکردگی کا ماہانہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ میڈیا ٹاکس، پریس کانفرنسز اور عوامی رابطہ مہم مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔
فلور اسٹریٹیجی، واک آؤٹس اور ووٹنگ پارٹی قیادت کی ہدایات کے مطابق ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اراکین کے لیے پارٹی ڈسپلن پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی۔ قرارداد کے مطابق پارٹی پالیسی سے انحراف پر کارروائی کی جائے گی، قرارداد کی منظوری کے بعد فوری نافذ العمل ہونے کا اعلان کیا جائے گا۔
اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چھ گھنٹے سے زائد وقت تک کے لیے منعقد ہوا۔ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دے دیا۔
پارلیمانی پارٹی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے حق میں قرارداد منظور کرلی۔
پارلیمانی پارٹی میں قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا مکمل اختیار دیتے ہیں، محمود خان اچکزئی جو فیصلہ کریں گے پارلیمانی پارٹی کو قبول ہوگا۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بھوک اور افلاس کی حالات پر ہم نے اجلاس میں بات کی، پارلیمنٹیرنز نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم تحریک چلائیں گے، پر امن رہیں گے، کسی کو گالی نہیں دے گے، ملک میں آئین کے جو پرخچے اڑائے گئے ہیں ہمیں دکھ ہوتا ہے، وہ پارٹیاں جن کو کہا جا رہا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لئے کام کر رہی ہیں ان کے پر کاٹے گئے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے آئین کا دفاع کرنا ہے، اس سلسلے میں تفصیلی بات ہوئی۔
چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آٹھ گھنٹے جاری رہا، سب نے ملک میں درپیش مسائل کا جائزہ لیا، سب سے اہم بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے ان کو سہولیات میسر نہیں ہیں اس پر جائزہ لیا گیا، بانی چئیرمین کے ساتھ جو رویہ برقرار رکھا گیا ہے وہ غیر آئینی بھی ہے اور غیر انسانی بھی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کو کسی سے ملنے نہیں دیا جا رہا ، بانی چئیرمین اور پاکستان کی عوام ایک جان ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے، فی الفور ان کے کیسز لگائے جائیں اور اس پر فیصلہ کیا جائے، محمود خان اچکزئی کی قیادت میں جو فیصلے لیے جائیں وہ ہمیں منظور ہیں، پارلیمانی پارٹی نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ ہمیں مائنس بانی منظور نہیں، ہر اُس کوشش کی بھرپور مذمت کی جائے گی جس میں مائنس عمران ہو گا، کل ہمارا احتجاج ہوگا اور اس میں پاکستان کےعوام بھرپور شرکت کریں گے۔
انہوں ںے کہا کہ میرے نوٹس میں لایا گیا ہے کہ شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہٹانے کے لیے کانسٹیٹوشن کورٹ میں پیٹیشن دائر کی ہے، یہ ایک سازش کی جا رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، وزیراعلی کون ہوتا ہے اس کی اجازت صرف بانی چئیرمین دیتے ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی کی مرضی سے بنے ہیں، یہ فیصلہ ریورس نہیں ہو سکتا، اس حوالے سے علی امین نے بھی وضاحت دے دی ہے، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات کا فیصلہ کرنے کو کمزوری نہ سمجھا جائے، سیاسی بحران دن بدن بڑھتا جا رہا ہے،عوام کو اوپر اتنا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ ملک نہیں چل پا رہا، مذاکرات کا مقصد ملک کو ٹریک پر لانا ہے، پاکستان میں آئین کی سپریمیسی ہونی چاہیے، ہمارے سیاسی قیدی سارے کے سارے بے گناہ ہیں، ان کو رہا کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان میں آپ اختلاف رائے نہیں رکھ سکتے؟ یہاں تو آدمی بات بھی نہیں کرسکتا، اگر اس ملک کو چلانا ہے تو ضروری کے کہ بات چیت ہو ، یہ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، وزیراعظم اپوزیشن چمبر کے چمبر میں آ جائیں، کیا ملک کو بحران سے نکالنا وزیراعظم کی ذمہ داری نہیں ہے؟ ہم ملک مذاکرات چاہتے ہیں مگر عزت کے ساتھ۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.