Native World News

ایران امریکا امن معاہدہ اور دوسرا امتحان

ایران امریکا امن معاہدہ اور دوسرا امتحان

پاکستان کی سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں بالآخر رنگ لے آئیں اور امریکا ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا۔

پاکستان کی سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں بالآخر رنگ لے آئیں اور امریکا ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے معاہدے کو تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی اور پاکستان بہ طور ثالث اس کی میزبانی کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن کی مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط ہو گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دستخط کیے ہیں جب کہ امریکا کی طرف ایم او یو پر خود صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بقول جمعہ کو امن معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز باقاعدہ طور پر کھل جائے گی اور تیل کی تجارت شروع ہو جائے گی۔ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے پاکستان نے بنیادی ثالث کا کردار ادا کیا۔

تاہم سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی بھرپور معاونت کی اور چین و روس نے بھی پس پردہ اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ پاکستان کے ثالثی کے کردار کو پوری دنیا میں تحسین کی نظر سے دیکھا گیا۔ تمام بڑے عالمی رہنماؤں نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سفارتی کردار ادا کرنے کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ صدر ٹرمپ متعدد مواقعوں پر فیلڈ مارشل کو اپنا فیورٹ جنرل قرار دے چکے ہیں۔

مذکورہ امن معاہدے سے امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی سے جہاں مشرق وسطیٰ میں امن کو تقویت ملے گی، وہیں عالمی سطح پر کئی ماہ سے منجمد معاشی و تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہوں گی اور بالخصوص تیل کی منڈیوں میں امن معاہدے کی خبر نے نہایت مثبت اثرات مرتب کیے اور تیل کی قیمتیں نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ دنیا بھر کی اسٹاکس مارکیٹوں میں تیزی آنے لگی ہے۔ ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی پابندیوں کا سامنا کیا ہے۔

اس کے غیر ملکی اثاثے بھی منجمد رہے اس کے باوجود ایرانی قوم نے اپنی مدد آپ کے طور پر جینے کا ہنر سیکھا، اپنی معاشی، سیاسی بالخصوص عسکری قوت اور دفاعی مہارت میں غیر معمولی اضافہ کیا جس کا بین ثبوت 39 روزہ محاذ آرائی کے دوران پوری دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ اس کی اہم ترین سیاسی قیادت، فوجی ماہرین اور دفاعی حصار پر امریکا اور اسرائیل نے تابڑ توڑ حملے کیے اور صدر ٹرمپ کے بقول امریکا نے ایران کی جنگی طاقت کو ختم کر دیا لیکن عملاً امریکا و اسرائیل ایسا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ صدر ٹرمپ تمام تر دعوؤں کے باوجود ایران میں نہ رجیم تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی فوجی و دفاعی حصار کو مسمار کر سکے اور نہ ہی افزودہ یورینیم کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ایرانی قوم نے تمام تر اختلافات بھلا کر بے مثال قومی یکجہتی، وطن پرستی اور اتحاد کا مظاہرہ کرکے دنیا کی واحد سپر پاور کو مذاکرات اور امن معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا۔

امریکا ایران امن معاہدے نے ثابت کر دیا کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ نئے تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ صرف مکالمہ، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ہی دنیا کے چھوٹے بڑے مسائل اور تنازعات کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے تب ہی دنیا میں امن کا قیام ممکن ہے۔ امن معاہدے سے ایرانی قیادت کو بھی اپنے وطن میں کچھ نہ کچھ مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کو اندرون ملک سیاسی محاذ پر سخت مزاحمت کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ امریکا میں بعض حلقے امن معاہدے کو صدر ٹرمپ کی سیاسی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں اور شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص اسرائیل کی جانب سے صدر ٹرمپ کو کڑی تنقید اور مخالفت کا سامنا ہے۔

اسرائیل نے ایران سے امن معاہدے کو سخت نقصان دہ قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تل ابیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل امن معاہدے کی شرائط کی پابندی نہیں کرے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے برملا کہا ہے کہ امن معاہدے کے باوجود ہماری مہم ختم نہیں ہوئی اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے اور اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں موجود رہے گی۔ نیتن یاہو کے بقول معاہدہ ٹرمپ نے کیا ہے یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے جب کہ ہمارے اپنے مفادات ہیں جن کا ہم دفاع کریں گے۔ نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کے باعث ہی امن معاہدے میں فی الحال لبنان کو شامل نہیں کیا گیا۔ ایران کے خلاف جنگی اقدام نے صدر ٹرمپ کو سخت خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا کے نیٹو اتحادیوں نے ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیا۔

یورپ بھی جنگ سے دور رہا، اقوام متحدہ بھی مخالف تھا، صدر ٹرمپ کو ملک کے اندر بھی سیاسی و عوامی سطح پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی عالمی طاقت کے غرور کو ایران نے خاک میں ملا دیا۔ چار و ناچار امریکا نے ایران سے امن معاہدہ تو کر لیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ثابت کر دیا کہ عالمی تنازعات کے حل کی سفارت کاری میں پاکستان بلند ترین مقام پر ہے۔ مشرق وسطیٰ کا مستقبل امن معاہدے کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ امن معاہدے پر اس کی روح کے مطابق کماحقہ عمل درآمد کروانا پاکستان کے لیے دوسرا بڑا امتحان ہوگا۔

Source: https://www.express.pk/story/2818180/iraan-america-aman-muahida-aur-dosra-imtehan-2818180

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.