Native World News

باپ۔۔۔ محبت کا ایک وسیع سمندر

باپ۔۔۔ محبت کا ایک وسیع سمندر

باپ ایک ایسا رشتہ اور احساس ہے جس کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا ہے کہ میں کائنات کو اپنے الفاظ میں سمونے کی کوشش کر رہا ہوں۔

باپ ایک ایسا رشتہ اور احساس ہے جس کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا ہے کہ میں کائنات کو اپنے الفاظ میں سمونے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آج کا دِن اپنی مناسبت سے ایک ایسے رشتے، پیار، محبت اور شفقت کے پیکر کو سلام پیش کرنے اور اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کا تقاضا کر رہا ہے جو ہم سب کے لیے ناگزیر رشتہ ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں باپ کے رشتے کو وہ اہمیت، احساس، اپنائیت اور احترام نہیں دیا جاتا جس کا وہ حق دار ہے۔ شاید ہمارے معاشرے میں باپ کو ایک سخت گیر انسان، ایک ایسے مضبوط اور خاموش رشتے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، کیوں کہ وہ اپنی شفقت، احساسات اور محبت کا اظہار کھل کر نہیں کرپاتا ہے، حالاںکہ اُس کے دِل میں محبت کا ایک وسیع سمندر موج زن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات سے یہ محسوس کیا ہے کہ ہم باپ کے رشتے، اس کی قربانیوں اور اس کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے اکثر جھجک کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرپاتے ہیں۔

شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ باپ اپنی ذمے داریوں اور اپنے بظاہر سخت کردار کی وجہ سے اُولاد کے ساتھ ایک ایسا فاصلہ پیدا کرلیتا ہے کہ وہ ان سے اپنی محبت کے اظہار کو غیرضروری سمجھنے لگتا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں باپ یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ بچوں کے ساتھ اپنی محبت، پیار اور قربت کا زیادہ اظہار کرے گا یا ان کے ساتھ دوستی کا تعلق قائم کرے گا تو شاید اس کی شخصیت کے اس سخت گیر اور باوقار تاثر کو دھچکا پہنچے گا، حالاںکہ حقیقت یہ ہے کہ باپ کی خاموشی میں بھی محبت ہوتی ہے، اس کی سختی میں بھی شفقت چھپی ہوتی ہے اور اس کی جدوجہد کا مقصد ہمیشہ اپنی اولاد کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر ہوتا ہے۔

میرے اس مضمون کا مقصد جہاں باپ کی عظمت، اس کی قربانیوں اور اُس کے لازوال رشتے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے وہیں اس کا مقصد ہمارے معاشرے میں باپ کی حیثیت، بچوں کی شخصیت و کردارسازی اور کام یابی میں اس کے کلیدی اور فیصلہ کن کردار کو بھی اُجاگر کرنا ہے۔

اس کے ساتھ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے جدید دُور میں باپ کس طرح اپنے بچوں کے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے کو مزید مضبوط، مثبت اور مؤثر بنا سکتا ہے۔ یاد ر ہے کہ جدید سائنس، نفسیات اور سماجی علوم کی متعدد تحقیقات اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ بچوں کی شخصیت، ذہنی نشوونما، جذباتی استحکام، خوداعتمادی اور کردارسازی میں باپ کا کردار انتہائی اہم اور اثرانگیز ہوتا ہے۔

باپ نہ صرف اپنے بچوں کی مادی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ اپنے طرزِعمل، اقدار، فیصلوں اور زندگی گزارنے کے انداز کے ذریعے ان کی فکری اور اخلاقی تربیت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باپ کی موجودگی، راہ نمائی اور محبت بچوں کی کام یابی اور متوازن شخصیت کی تشکیل میں مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

آج دُنیا بھر میں یومِ والد منایا جارہا ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے والد کی محبت، قربانیوں اور بے لوث خدمات کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ روزمرہ زندگی کی مصروفیات یا معاشرتی رویّوں کی وجہ سے اپنے والد کے ساتھ اپنی محبت، احساسات اور ان کی قربانیوں پر ان کا شکریہ ادا نہیں کرپاتے ہیں۔ ویسے بھی ہمارے معاشرے میں ایک طرح کا کمیونیکیشن گیپ موجود ہے، جس کی وجہ سے باپ کے ساتھ ہمارے اظہارِخیال اور گفتگو کا وہ انداز پیدا نہیں ہوپاتا ہے جو عام طور پر دوسرے رشتوں میں نظر آتا ہے۔ ہم اپنے جذبات دِل میں رکھتے ہیں، مگر انھیں الفاظ کا روپ نہیں دے پاتے ہیں۔ تاہم آج کا دن ہمیں ایک خوب صورت موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس خاموشی کو توڑیں، اس گفتگو کا آغاز کریں اور اپنے والد کے لیے اپنی محبت، احترام اور تشکر کا اظہار کریں۔

باپ کی شفقت اور بچے کی شخصیت

باپ کی شفقت اور شخصیت کا بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ باپ کی محبت، شخصیت، اقدار اور کردار کے بعض پہلو جینیاتی وراثت کے ذریعے بھی بچوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ بچے اپنے باپ کی سوچ، طرزِعمل، عادات اور کردار سے شعوری اور لاشعوری طور پر بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ اثر صرف فطری یا جینیاتی سطح تک محدود نہیں رہتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ باپ کا کردار، اس کی سوچ اور بچوں کے ساتھ اس کا تعلق، ان کی شخصیت، ذہن سازی اور کردارسازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جو باپ اپنے بچوں کے ساتھ جذباتی، دوستانہ اور مثبت تعلق قائم کرتے ہیں، ان کے بچے عموماً زندگی بھر اپنے والد کے ساتھ مضبوط، پائے دار اور اعتماد پر مبنی رشتہ برقرار رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ آج کے دُور کے ایک نوجوان باپ ہیں تو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف مثبت سرگرمیوں میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔

انھیں اپنی محبت، اپنی قربانیوں، اپنی محنت، اپنی ناکامیوں اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کے بارے میں بتائیں۔ سب سے بڑھ کر اپنے خوابوں، اپنی سوچ اور اپنی زندگی کے تجربات کو ان کے ساتھ مثبت انداز میں شیئر کریں، کیوںکہ یہی گفتگو اور قربت آنے والے کل میں ان کی شخصیت، اعتماد اور کام یابی کی بنیاد بنے گی۔

باپ، بچے کا پہلا ہیرو اور پہلا استاد

عام طور پر ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ بچے کی سیکھنے اور پرورش کا آغاز ماں کی گود سے ہوتا ہے، اور یہ بات اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ باپ کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے اور بچے کی متوازن شخصیت کی تشکیل کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔ وہ والد جو شروع ہی سے اپنے بچوں کی تربیت کے عمل کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، شعوری طور پر اپنی شخصیت، رویّوں اور عادات میں مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں اور بچوں کو سکھانے کے لیے خود ایک عملی نمونہ بن جاتے ہیں، ان کے بچے عموماً اپنے باپ کو اپنا پہلا رول ماڈل اور ہیرو سمجھتے ہیں۔

بچے اپنے والد کی شخصیت، کردار، اقدار اور افکار سے متاثر ہوتے ہیں اور انہیں اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باپ کا ہر عمل، ہر رویّہ اور ہر فیصلہ بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

باپ کا کردار بچوں کے لیے مثال

باپ بچوں کے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچاننے، ان کی خوبیوں کو نکھارنے اور ان کی شخصیت میں مضبوطی پیدا کرنے والی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہوتا ہے۔ میری رائے میں بچوں کی بہت سی سوفٹ مہارتیں (Soft Skills)، جیسے جذباتی ہم دردی، تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت اور حساسیت، عموماً ماں کی شخصیت اور تربیت سے پروان چڑھتی ہیں، جب کہ نظم و ضبط، کردار کی مضبوطی، جرأت، حوصلہ، مستقل مزاجی، محنت اور مشکل فیصلے کرنے جیسی خصوصیات اکثر باپ کے کردار اور طرزِعمل سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ باپ عموماً گھر کی معاشی اور سماجی ذمے داریوں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور خاندان کے سربراہ کے طور پر زندگی کے مختلف چیلینجز اور عملی مسائل کا سامنا کرتا ہے۔

اسی لیے دُنیا کے معاملات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کا اس کا تجربہ بچوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ باپ کا تجربہ بچوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیوںکہ وہ اپنی زندگی کے مشاہدات، کام یابیوں، ناکامیوں اور سیکھے گئے اسباق کو آنے والی نسل تک منتقل کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ والد جو اپنے مثبت تجربات، حکمت اور زندگی سے حاصل ہونے والے سبق اپنے بچوں کے ساتھ بانٹتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے کام یابی کا سفر نسبتاً آسان، واضح اور مؤثر ہوجاتا ہے۔

اپنے بچوں کے لیے راستہ بنائیں

ایک بات جو اکثر مشاہدے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ باپ جہاں اپنی ذمے داریاں پوری کرتے ہیں، وہیں بعض اوقات اپنے بچوں کو بار بار یہ احساس بھی دلاتے رہتے ہیں کہ وہ ان کے لیے کتنی محنت کر رہے ہیں اور ان کی بہتری کے لیے کتنی قربانیاں دے رہے ہیں۔

اگرچہ یہ احساسات اپنی جگہ درست ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات والد اپنی رائے، سوچ اور فیصلوں کو بچوں کی شخصیت اور زندگی پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رویے کے نتیجے میں والد اور اولاد کے درمیان اختلافِ رائے کی ایک دیوار کھڑی ہوجاتی ہے، جو وقت کے ساتھ تعلقات میں فاصلے پیدا کرسکتی ہے۔ اچھے باپ اس دیوار کو بات چیت، مثبت تعلقات، باہمی احترام اور دوستی کے ذریعے گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی بات سنتے ہیں، ان کے خیالات کو اہمیت دیتے ہیں اور اختلافِ رائے کو دشمنی یا نافرمانی نہیں سمجھتے۔ اس کے برعکس، بعض والد اپنی انا اور ضد کو مسئلہ بنالیتے ہیں اور غیرشعوری طور پر اپنے بچوں کی ترقی اور خوشی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

میں اکثر والدین، خصوصاً والد سے یہ بات شیئر کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کے خوابوں کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ یقیناً دُنیا میں کوئی بھی باپ جان بوجھ کر اپنے بچوں کی کام یابی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتا، لیکن بعض اوقات ہماری اپنی سوچ، زندگی کے تجربات، خوف، خدشات اور حالات سے تشکیل پانے والے نظریات ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

باپ، بچوں کے لیے بہترین سایہ:

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ مثال دی جاتی ہے کہ باپ خود دھوپ میں رہتا ہے لیکن اپنے بچوں کو ہر مشکل، تکلیف اور آزمائش سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست اور خوب صورت ہے، کیوںکہ ایک باپ کی فطرت ہی اپنی اولاد کے لیے قربانی دینا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تاہم بعض اوقات یہی سوچ باپ کو اس قدر مضبوط بنا اور خاموش کر دیتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کی مشکلات، جدوجہد اور حالات اپنے بچوں کے ساتھ شیئر نہیں کرتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ باپ اپنے بچوں کو اپنی زندگی کے نشیب و فراز، مشکل حالات، پریشانیوں، ناکامیوں اور کام یابیوں سے ضرور آگاہ کرتا رہے۔

انھیں یہ بتائے کہ زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی اور ہر کام یابی کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، صبر اور قربانی ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف بچوں میں عاجزی، شکرگزاری اور تحمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ انہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ان کا باپ ان کے بہتر مستقبل کے لیے کتنی محنت، قربانیاں اور مشکلات برداشت کر رہا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بہت سے والد جب زندگی میں کام یاب ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو اپنے ماضی کی مشکلات اور جدوجہد سے آگاہ نہیں کرتے ہیں۔ نتیجتاً بچے ان سہولیات کو معمول سمجھنے لگتے ہیں جو انھیں حاصل ہوتی ہیں۔

اس لیے آپ جس بھی مقام اور حالات میں ہوں، اپنے بچوں کو اپنے ماضی، اپنی جدوجہد اور اپنے سفر کے بارے میں ضرور بتائیں۔ انھیں عاجزی، حلم، شکرگزاری اور محنت کی قدر سکھائیں۔آپ اپنے بچوں کے لیے سایہ ضرور بنیں، لیکن انھیں دُنیا کی دھوپ کا احساس بھی ہونے دیں۔ انھیں زندگی کے حقائق، ذمے داریوں اور چیلینجز سے متعارف کروائیں تاکہ وہ آپ کی محنت، آپ کی قربانیوں اور آپ کی اہمیت کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ یاد رکھیں، بہترین باپ وہ نہیں جو اپنے بچوں کو ہر مشکل سے مکمل طور پر بچا لے، بلکہ وہ ہے جو انھیں مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بنا دے۔

والد بچوں کے ساتھ اپنے جذباتی اور نفسیاتی تعلق کو مضبوط بنائیں۔ بچے اپنے والد کی قدر کریں، اُن کی خدمت کریں، ان کے ساتھ شفقت اور احترام کا رویہ اختیار کریں، اور ان کی رائے کا احترام کریں، چاہے وہ آپ کی رائے سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔

باپ کی سختی دراصل زندگی میں آنے والی بہت سی مشکلات سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ باپ کے بغیر زندگی اور کام یابی کسی نہ کسی حد تک ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ بچے جنھیں اپنے باپ کی شفقت، محبت، توجہ اور وقت نصیب ہوا، اور خوش نصیب ہے وہ باپ جسے احساس کرنے والی اور قدر دان اولاد ملی۔ کبھی کبھی بچے اپنے باپ کو اس لیے پسند نہیں کرتے کہ وہ انھیں ان کی حقیقت کا آئینہ دکھاتے ہیں، وہ سچ بتاتے ہیں جو دوسرے نہیں بتاتے ہیں۔ مگر اس کے پیچھے صرف ایک مقصد اپنی اولاد کی بہتری اور کام یابی ہوتا ہے۔ باپ کی شخصیت میں قربانی کا جذبہ، خدا کے رحم کی جھلک اور محبت پائی جاتی ہے۔ باپ بننا دُنیا کا سب سے خوب صورت اور بہترین احساس ہے۔

Source: https://www.express.pk/story/2818977/baap-mohabbat-ka-ik-wasee-samanda-2818977/

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.