ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس کا ریکارڈ حاصل کرلیا، سہولت کاروں کو نہیں چھوڑیں گے، اسکا برانڈ گلے کا پھندا بنے گا، آزاد خان
کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ گرفتار منشیات فروش ملزمہ انمول پنکی کے موبائل فون سے 835 رابطہ نمبرز ملے ہیں جس میں سے 300 ایسے نمبرز تھے جو ملزمہ کے ایکٹو کسٹمرز تھے جبکہ اس کے ساتھ عالمی گینگ کے لوگ بھی شامل تھے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نےسینٹرل پولیس آفس میں قائم محمد علی آڈیٹوریم میں سینیئر پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بتایا کہ 12 مئی کی صبح ڈسٹرکٹ سٹی پولیس اور وفاقی حساس اداے نے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کر کے انتہائی مطلوب ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمہ کے فلیٹ سے ڈیڑھ کلو کوکین اور نشہ آور سات کلو گرام مختلف کیمیکلز اور نائن ایم ایم پستول بھی برآمد کیا گیا جس کا مقدمہ گارڈن تھانے میں درج ہوا۔
آزاد خان کے مطابق اسی روز پولیس نے گرفتار ملزمہ کو درج کیے جانے والے مقدمے میں متعلقہ عدالت میں پیش کیا لیکن بدقسمتی سے ملزمہ کی پیشی کے دوران پولیس کی جانب سے غفلت برتی گئی اور اس کے بعد ملزمہ کو ریمانڈ کے لیے عدالت لیجایا گیا لیکن ملزمہ کا ریمانڈ نہیں مل سکا اور ملزمہ کو جیل کسٹڈی کر دی گئی اس واقعے میں جن 3 پولیس افسران کی جانب سے غفلت و لاپروئی سامنے آئی انھیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا جس کے بعد نئی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بتایا کہ ایک ٹیم کی سربراہی ایس پی انویسٹی اور ایس آئی یو کے افسران شامل تھے، عدالت میں ایس او پی کی خلاف ورزی پر ڈی آئی جی ویسٹ کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا اور انھیں ذمہ داروں کا تعین کرنے کا ٹاسک سونپا گا تاکہ اس کی نشاندہی ہوسکے اور مزید قانونی کارروائی کی جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ڈی آئی جی ساؤتھ کی نگرانی میں ٹیم بنائی گئی جس میں 2 ایس ایس پیز شامل تھے جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کا 3 روزہ ریمانڈ حاصل کیا اور ان 3 دن میں سے صرف 2 دن میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران بڑی چیزیں سامنے آنے پرآئی جی سندھ نے میری سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی ہے جس میں ڈی آئی جی کرائم اینڈ انوسٹی گیشن عامر فاروقی، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ شیراز نذیر اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر شامل ہیں ، اس کیس کا دائرہ اتنا بڑا ہے کہ ہم چاہتے ہیں اس کی تفتیش صحیح طریقے سے کی جا سکے۔
آزاد خان نے بتایا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ گرفتارملزمہ کے 20 کسیز سندھ کی سطح پر ہیں جن میں 17 کسیز پرانے اور 3 نئے کیس درج کیے گئے ہیں ایک کیس اے این ایف کا ہے اور 3 کیسز لاہور میں درج ہیں۔
کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ 9 کیسز میں ملزمہ کو گرفتار کیا جاچکا ہے پرانے کیسز میں سے 6 کیسز ختم ہو چکے ہیں 3 کیسز میں گرفتار ملزمہ اشتہاری ہے اور اے این ایف کے کیس میں گرفتار ملزمہ مفرور ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ملزمہ کے 17 کیسز کے علاوہ اس کے نیٹ ورک کے 9 کیسز الگ ہیں جو رائیڈرز ہیں ان کے کیسز ہیں جن میں ملزمہ کا نام شامل نہیں ہوسکا تھا، گرفتار ملزمہ منشیات کے کاروبار میں 2014 سے سرگرم ہے جبکہ پنکی نے کراچی میں 2018 سے منشیات کا کاروبار شروع کیا اور یہ آن لائن کام کرتی تھی۔
کراچی پولیس چیف کے مطابق ملزمہ کراچی میں جب ریڈار میں آتی تو لاہور منتقل ہوجاتی تھی اور اپنا کام جاری رکھتی تھی۔ پولیس چیف نے بتایا کہ ملزمہ کے موبائل فون کا سی ٹی ڈی سے فارنزک کرایا گیا ہے جس کے بعدا انکشاف ہوا کہ ملزمہ کے موبائل فون میں 869 رابطہ نمبر موجود ہیں جن کی لوکیشن حاصل کی جا رہی ہے، پولیس نے 639 رابطہ نمبروں کی لوکیشن حاصل کرلی ہے جن میں صرف 132 کراچی کے رابطہ نمبرز سامنے آئے ہیں جبکہ دیگر رابطہ نمبر کراچی کے نہیں ہیں ، 240 کی لوکیشن ابھی ملنا باقی ہے جس پر پولیس کام کر رہی ہے۔
انمول پنکی کی عدالت پیشی سے قبل خاتون وکیل جذباتی، سخت سزا دینے کا مطالبہ
کراچی سے گرفتار انمول پنکی کے انکشافات کے بعد پنجاب کے منشیات نیٹ ورک میں ہلچل مچ گئی
انمول پنکی کی نشاندہی پر کراچی سے 45 لاکھ روپے مالیت کی کوکین برآمد
آزاد خان نے بتایا کہ گرفتارملزمہ کا نیٹ ورک کراچی تک محدود نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں تک پھیلا ہوا ہے، ملزمہ کے رابطہ نمبروں سے معلوم ہوا کہ 300 ایسے لوگ ہیں جو منشیات کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور اس حوالے سے ابھی تفیتش کا عمل جاری ہے اور یہ دیکھا جائے گا کہ اس میں خریدار کون ہیں اور ان کو منشیات فروخت کرنے والے کون لوگ ہیں ، ایسے لوگوں کو ملزمان تصور کیا جائے گا اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سہولت کاری میں ملوث ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ ملزمہ جہاں سے رقم ٹرانزیکشن کرتی تھی اسے بھی گرفتار کرلیا ہے، پولیس نے کارروائی کے دوران ایک اکاؤنٹ کا ڈیڑھ سالہ ریکارڈ حاصل کیا ہے جو ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے اور اس ایک اکاؤنٹس میں 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن بھی سامنے آئی ہے اور سب سے زیادہ لاہور سے تعلق رکھنے والی اینا کے نام پر کی گئی ہیں اور یہ ٹرانزیکشن 90 لاکھ سے زیادہ ہے جس تفتیش جاری ہے ان کا کردار دیکھا جا سکا ہے اور سب کو قانونی کے دائرے میں لایا جائیگا۔
آزاد خان نے بتایا کہ پولیس نے ملزمہ کے پرانے گھر پر بھی چھاپہ مارا اور وہاں سے پولیس کو کوکین ملی ہے اور اس چھاپے کا الگ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ ملزمہ کے خلاف تفتیش جاری ہے اوراس تفتیش کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا، کراچی پولیس پنجاب پولیس سے بھی رابطے میں ہے اور پنجاب پولیس سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں، اے این ایف کے ساتھ رابطے ہیں اور یہ معاملہ بین الاقوامی بھی ہوسکتا ہے کیوںکہ ہمیں معلوم ہوا کہ اس نیٹ ورک میں غیر ملکی بھی ملوث ہیں جس کا تعلق افریقی ممالک سے ہے اور وہ لاہور سے اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں اور ان کی تعداد 6 سے8 ہوسکتی ہے اور ان تک رسائی کی بھی کوشش کی جا رہی ہیں اور اس نیٹ ورک میں 20 کے قریب خواتین ہیں اور وہ بھی لاہور بیسڈ ہیں ان تک بھی پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ منشیات کی شیپمنٹ لاہورمیں آتی تھی اور وہیں پراڈکٹ بنا کر اس میں مختلف کیمیکلز ملا کر مختلف طریقوں کراچی لاکر اپنے رائیڈرزکے ذریعے منتقل کرتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ 12 رائیڈرزکی نشاندہی کرلی گئی ہے جس میں 8 ایسے رائیڈرز کی نشاندہی کی گئی ہے جو کام کے لیے کراچی آتے تھے اور کام انجام دینے کے بعد واپس لاہورچلے جاتے تھے صرف ایک رائیڈر کراچی کا تھا جب رائیڈر پکڑے جانے لگ تو انھوں نے اپنا طریقہ واردات تبدیل کردیا اورلاہورسے رائیڈر بھیجنے کے بجائے مقامی رائیڈرزسے کام لینا شروع کیا۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے ساتھ بھی کام کررہی ہے پولیس چیف نے بتایا کہ 4 نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے بھیجے ہیں جو اس کام میں ملوث ہیں اوربھی لوگوں کےنام ای سی ایل میں ڈالیں گے تاکہ وہ ملک سے فرارنہ ہوسکیں، گرفتار ملزمہ پر ایک نشے کے عادی شخص کا قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے اورمزید بھی دیکھیں کہ کئی نشے کے عادی افراد ہلاک ہوئے ہیں کہیں ان کا کنکشن تواس نیٹ ورک سے تو نہیں تھا لوگوں کو تفتیش میں شامل ہیں اور وہ کیسز میں اگے لیکرجائیں گے۔
کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ملزمہ کی گرفتاری اورپیشی کے بعد سوشل میڈیا پر ملزمہ کو ایسے پیش کیا گیا جیسے وہ ایک ہیروئن ہے بہت ساری غیرمصدقہ معلومات دی جا رہی تھیں پولیس پر الزام تراشی کی گئی۔
انھوں نے بتایاکہ فلیٹ سے برآمدگی کی ویڈیو چلانا سب سے بڑی خلاف ورزی تھی جو شواہد کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، کہا جا رہا تھا کہ ملزمہ کو لاہورپکڑا گیا توایسا نہیں ملزمہ کراچی سے ہی گرفتار ہوئی ہےاس میں پولیس اورانٹیلی جنس ایجسنی کی بڑی محنت ہے۔ پولیس اورتمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکرکام کر رہے ہیں کراچی پولیس کے ہزاروں شہدا ہیں وہ کراچی کے شہریوں کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہے تنقید ضرور کریں لیکن کوئی اچھا کام ہوتو اسکی تعریف بھی کی جائے۔
کراچی پولیس نے کہا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر کام کریگی اور میرٹ پر اس کیس کی تفتیش کریگی جو لوگ ملوث ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا، ملزمہ نے پولیس کو چیلنج کیا تھا لیکن پولیس افسران نے خطرات کے باوجود محنت سے ملزمہ کو گرفتار کیا اورملزمہ کا برانڈ ہی اس کے گلے کا پھندا بنے گا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.