تمام تر تنقید اور تحفظات کے باوجود یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل میڈیا آج میڈیا کی دنیا میں ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے ۔جو
تمام تر تنقید اور تحفظات کے باوجود یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل میڈیا آج میڈیا کی دنیا میں ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے ۔جو لوگ ڈیجیٹل میڈیا پر سخت تنقید کرتے یا اس پر تحفظات رکھتے ہیں وہ خود بھی اپنے اظہار اور تشہیر کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔یہ ماننا ہوگا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی موجودگی میں ڈیجیٹل میڈیا نے اپنی اہمیت کو عالمی دنیا کی سطح پر منوایا ہے اور بڑی تیزی سے ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں نئی سے نئی جہتیں سامنے آرہی ہیں ۔یہ ہی ڈیجیٹل میڈیا اب دنیا میں بیانیے کی تشکیل میں ایک بڑا کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے ۔
یہ میڈیا محض سیاست تک محدود نہیں بلکہ علمی ،فکری ، کاروبار کی دنیا اور پیغام رسانی کے عمل میں اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ہمارے یہاں دو نقطہ نظر ڈیجیٹل میڈیا کے تناظر میں غالب ہیں۔اول، ہم ڈیجیٹل میڈیا کے منفی پہلوؤں کو اجاگر کرکے اس کی اہمیت کو کم کرنے یا اس پر پابندی عائد کرنے جیسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔اس کے مخالفین یہ منطق بھی دیتے ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا نے سماج کو تقسیم کیا ہے اور سماج میں ایک ہیجانی کیفیت ، انتشار ، منفی اور انتہا پسندانہ رجحانات کو پیدا کیا ہے ۔
دوئم، یہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور اس میں جو بھی مسائل ہیں اس کو بنیاد بناکر تعلیم و آگاہی سمیت مثبت استعمال کے عمل کو فروغ دیا جائے۔بالخصوص نئی نسل کو تعلیم دینے کے لیے تعلیمی اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ عمل نئی نسل میں ڈیجیٹل میڈیا سے جڑی خرابیوں کو ختم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔اصل میں ہمیں ڈیجیٹل میڈیا کو پراپیگنڈا سے نکال کر اسے سیاسی ،سماجی ، تعلیمی، معلوماتی اور آگاہی کے عمل سے جوڑنا ہوگا۔جذباتیت ، تضحیک یا کردار کشی کے مقابلے میں اسے ٹھوس شواہد ،تحقیق اور مثبت پہلوؤں کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
اس لیے ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید اور بلاوجہ غصہ کی پالیسی مسائل کا حل نہیں ہے ۔ہمیں ایشوز کی بنیاد پر ڈیجیٹل میڈیا کی ضرورت اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔اس وقت عالمی ،داخلی اور علاقائی سطح پر جو چیلنجز ہمیں درپیش ہیں اس کی آگاہی کے لیے ہمیں حقیقی مسائل کو بنیاد بنا کر ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا کو مضبوط بنانا ہوگا۔ یہ جو ہمیں ڈیجیٹل میڈیا پر شور شرابہ نظر آتا ہے، ریٹنگ یا ڈالر کی سیاست غالب نظر آتی ہے اس تماشہ کی زندگی زیادہ لمبی نہیں ۔کیونکہ اسی سوچ کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا پر ریٹنگ کے کھیل کو غلبہ حاصل ہوا تھا جو اب کافی حد تک اپنی اہمیت کھو بیٹھا یا جمود کا شکار ہوگیا ہے۔یہ ہی حال ڈیجیٹل میڈیا پر ریٹنگ کی سیاست کے ساتھ ہونا ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کی بھی اہمیت کم ہوگی۔
اب بھی لوگوں کی ایک تعداد اس سے بیزار نظر آتی ہے۔لوگ ماحولیاتی تبدیلیوں، تعلیم ،صحت، گورننس،محروم طبقات،قانونی نظام،صنفی مسائل، سیاست اور عام آدمی کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ لوگوں کو ان بحثوں کی زیادہ ضرورت ہے کہ جہاں ان کے مسائل کا حل سیاسی ، قانونی یا جمہوری فریم ورک میں نظر آئے۔لوگوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور حکمران طبقات نے ڈیجیٹل میڈیا کو اپنے مخالفین کے خلاف بطور مہم استعمال کیا ہوا ہے۔ اس کام کے لیے بڑی جماعتوں نے باقاعدہ اپنے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم کی تشکیل کی ہوئی ہے اور وہ اس فورم کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا کو اسی مخالفانہ مہم میں بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔اس لیے جب ہم ڈیجیٹل میڈیا کے منفی کردار پر بات کرتے ہیں تو ہمیں حکمران سمیت بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے ہر سطح پر حامیوں کا بھی تجزیہ کرنا چاہیے کہ وہ خود اس خرابی میں کیا کردار ادا کررہے ہیں ۔
ڈیجیٹل میڈیا کو بنیاد بنا کر ہمیں حکمرانی کے نظام کو درست سمت دینی ہوگی اور یہ کام محض الزام تراشیوں یا مخالفانہ مہم کی بنیاد پر کسی بھی صورت ممکن نہیں ہوگا۔ ڈیجیٹل میڈیا استعمال کرنے والے بچوں کو اس طرف لانا ہوگا کہ وہ اس پلیٹ فارم سے تنقید و تضحیک کا فرق سمجھنے کی کوشش کریں ۔ان کو اپنی متبادل سوچ اور بیانیہ پیش کرنا ہے جو منطق اور دلیل کی بنیاد پر ہو اور گالم گلوچ یا مخالف رائے کو تسلیم نہ کرنے یا رائے کو دشمنی کے طور پر دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔اب یہ تسلیم کریں دنیا میں ایشوز کی بنیاد پر ہم ڈیجیٹل میڈیا دیکھ رہے ہیں جہاں پڑھے لکھے لوگ علمی اور فکری بنیاد پر مختلف مسائل پر بات چیت کررہے ہیں۔میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا اور دیکھ بھی رہا ہوں جہاں سنجیدہ پوڈ کاسٹ کی اہمیت بڑھ رہی ہے ۔یقیناً اس میں کمرشل پہلو کمزور ہے مگر آہستہ آہستہ اس کی اہمیت اور افادیت بڑھے گی اور یہ عمل زیادہ پزیرائی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
ہمیں بھی اس طرز کی پوڈ کاسٹ کی پزیرائی کرنی ہوگی اور ان کے کردار کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔اس عمل میں ہمارا تعلیمی نظام بالخصوص کالجز اور جامعات کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔اول وہ اپنے تعلیمی نصاب میں ڈیجیٹل میڈیا کو باقاعدہ حصہ بنائیں اور بچوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال یا اس کی حدود وقیود کی آگاہی دیں کہ وہ اپنا پیغام کس طرح سے مثبت انداز میں آگے پیش کرسکتے ہیں۔
دوئم، بچوں اور بچیوں میں ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے کوڈ آف کنڈکٹ کو تریب دیں اور ان کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی دی جائے۔سوئم طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے درمیان اس پر مکالمہ کو فروغ دیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ بچے کیسے سوچتے ہیں اور کیسے ہم بہتری کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ چہارم، دنیا میں ڈیجیٹل سطح پر ہونے والے مثبت تجربات اور ایشوز کی بنیاد پر ہونے والے کام سے سیکھا جائے جس میںڈاکومنٹری کا استعمال بھی ہے اور خاص طور پر ہم اپنے تعلیمی نظام میں کیسے ڈیجیٹل میڈیا کی نئی جہتوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔پنجم، اس آگاہی کو بنیاد بنانا ہوگا کہ ہم ریٹنگ کی سیاست سے خود بھی نکلیں اور دوسروں کو بھی نکالیںاور جو بھی ڈیجیٹل میڈیا کا غلط استعمال کررہا ہے اس کی حوصلہ افزائی کرنے یا اس کی ریٹنگ کا حصہ بنے کی بجائے اس کے طرزعمل پر سخت تنقید کریں یا ان کا بائیکاٹ کریں ۔ششم، جامعات کا کام ہے کہ وہ ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے موضوعات پر تحقیق کرے کہ اس میں جو مسائل ہیں اس کی حقیقی وجوہات کیا ہیں۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ مسائل صرف ڈیجیٹل میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کی سطح پر بھی موجود ہیں۔ہفتم، یقینی طور پر ڈیجیٹل میڈیا کا ایک کوڈ آف کنڈکٹ سامنے آنا چاہیے لیکن یہ صرف حکومت کے مخالفین تک ہی محدود نہ ہو بلکہ اگر خود حکومت ڈیجیٹل میڈیا کا اپنے مخالفین کے خلاف غلط استعمال کررہی ہے تو اسے بھی جوابدہ بنانا ہوگا۔
ڈیجیٹل میڈیا حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ضرور ہوناچاہیے لیکن اس کا کام ریاست مخالفت کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے اور کوئی ریڈ لائن خود پر لاگو کرنی ہوگی ۔ایک بات حکومت کو سمجھنی ہوگی کہ ڈیجیٹل میڈیا کو روکنے یا اس کی بہتری کا علاج طاقت کی بنیاد پر ممکن نہیں کیونکہ اس سوچ اور فکرسے بلاوجہ طاقت کے استعمال کرنے والوں کے خلاف ردعمل پیدا ہوگا ۔اسے استعمال کرنے والوں کے لیے جوابدہی کا راستہ بھی تلاش کرنا ہوگا۔لیکن حکومت کا نظام تعلیم اورتعلیمی اداروں کو نظرانداز کرکے ڈیجیٹل میڈیا کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو مزید نئے مسائل کو پیدا کر رہا ہے ۔خود تعلیمی نظام اور جامعات کو آگے بڑھ کر اپنے اپنے نظام میں اس بیانیہ کو اور اس سے جڑے مسائل کی حکمت عملی کو ترتیب دینا ہوگا۔اس کے لیے تعلیمی نظام کی سطح پر ایک بڑی بحث کی ضرورت ہے جہاں ردعمل سے جڑی سیاست کم اور عملی و فکری بنیاد پر بحث زیادہ ہوتاکہ ہم کسی حل کی طرف پہنچ سکیں۔لیکن حکومت اور تعلیم کے نظام میں ڈیجیٹل میڈیا کی تعلیم کے حوالے سے جو باہمی رابطہ کاری یا حکمت عملی کی کمی ہے اس نے ڈیجیٹل میڈیا سے جڑے مسائل کو اورزیادہ خراب کردیا ہے اس لیے ہمیں زمینی حقایق کی بنیاد پر ڈیجیٹل میڈیا کے بارے میں ایک مربوط اور مضبوط پالیسی کی ضرورت ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.