چین کے مفاد میں ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے کیونکہ اس کی 40 فیصد تجارت وہاں سے گزرتی ہے
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے تاہم جنگ کے بادل چھٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین اختتام پذیر ہو چکا ہے، مشترکہ اعلامیہ بھی سامنے آچکا ہے۔ اس کے بعد کا منظرنامہ کیا ہو گا، اس حوالے سے آنے والے دنوں میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دفعہ پھر پاکستانی قیادت کی تعریف کی ہے اور یہ کہا ہے کہ پاکستان کے کہنے پر ہی ایران پر فیصلہ کن حملہ نہیں کیا گیا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی ابھی ناکام نہیں ہوئی، اگرچہ انھیں مشکلات کا سامنا ضرور ہے، انھوں نے اس کی وجہ امریکی رویے کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے، امریکا جو 40 دن کی جنگ میں حاصل نہیں کرسکا، وہ مذاکرات کی میز پرحاصل کرنا چاہتا ہے، ہمیں امریکا پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے۔
انھوں نے یہ باتیں بھارت میں ہونے والی برکس کانفرس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔ انھوں نے مزید کہا، امریکا سے مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب وہ سنجیدگی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرے، عسکری دباؤ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان رابطے موجود ہیں اور بعض شرائط اور رویوں پر تحفظات موجود ہیں۔ اس حوالے سے بھی بہت سی چیزیں میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔ اس بحران کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش بھی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی پریس کانفرنس میں اس کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔ انھوں نے کہا آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمے دار ایران نہیں ہے بلکہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے والے عناصر ہیں۔
سمندری گزرگاہ صرف ان ممالک اور قوتوں کے لیے بند ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں۔ ایران سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی ہے،ہم کسی بھی دباؤ، دھمکی یا فوجی کارروائی کو مسترد کرتے ہیں۔ ایران جنگ بندی برقرار رکھنے اور سفارتکاری کو موقع دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی باتیں کسی حد تک درست ہیں۔ جنگ کے حوالے سے دیکھا جائے تو اسرائیل اور امریکا نے پہل کی ہے حالانکہ اس دوران امریکا اور ایرانیوں کے درمیان بات چیت بھی ہو رہی تھی لیکن اچانک حملہ کر دیا گیا۔
یوں دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کی زیادہ ذمے داری امریکا اور اسرائیل پر ہی عائد ہوتی ہے۔ بہرحال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور 2015ء میں ہونے والے جوہری معاہدے پر بھی مکمل عمل کر رہا تھا،ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا۔
انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ جوہری افزودگی سے متعلق معاملات پر آیندہ مذاکرات کے مرحلے میں بات کی جائے گی۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری افزودگی کے حوالے سے ایرانی مؤقف میں خاصی حد تک نرمی موجود ہے۔
ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دورہ چین کے دوران کہا ہے کہ اگر ایرانی جوہری افزودگی بیس سال کے لیے منجمد کر دی جا تی ہے تو یہ بھی ان کے لیے قابل قبول ہو گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حوالے سے معاملات آگے بڑھنے کے چانسز موجود ہیں۔
بھارت میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، جنگ مسلط کی گئی تو دفاع کے لیے پوری طاقت سے لڑنے کو تیار ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے برکس ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف غیر قانونی جارحیت کی کھل کر مذمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور معیشت دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
انھوں نے چین کی خصوصی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ہم اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں۔ ایران کے کسی بھی مسئلے کا حل عسکری طریقے سے ممکن نہیں۔
انھوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات میں تسلسل کا فقدان رہا،ان کی ایک دن کی ٹویٹ دوسرے دن سے مختلف ہوتی ہے۔ بعض اوقات ایک ہی دن میں متضاد پیغامات دیے جاتے تھے جو اعتماد کی کمی کی بنیادی وجہ ہے۔
اس حوالے سے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ایسا ہی کہنا ہے کہ ایرانی قیادت بھی مختلف اوقات میں مختلف باتیں کرتی ہے۔
بہرحال چین سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو تقریباً تباہ کر دیا ہے تاہم ایک ماہ کی جنگ بندی کے بعد وہ کچھ کھڑے ہوئے ہوں گے تو اب ممکن ہے کہ ہمیں ایران میں دوبارہ جا کر کچھ صفائی کا کام کرنا پڑے۔
انھوں نے کہاکہ ایران کاجوہری پروگرام20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، چینی صدر بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیارنہیں بنانے چاہیئں،انھوں نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی تعریف کرتے ہوئے انھیں زبردست شخصیات قراردیا۔
انھوں نے کہا وہ چند دنوں میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی صدر شی جن پنگ آبنائے ہرمز کھولنے کے خواہاں ہیں، چین کے مفاد میں ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے کیونکہ اس کی 40 فیصد تجارت وہاں سے گزرتی ہے۔
ادھر چینی وزارت خارجہ نے صدر ٹرمپ کے دورہ کے اختتام پر کہاہے کہ صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم امور پر اتفاقِ رائے ہوا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور جامع جنگ بندی ناگزیر ہے،یہ تنازع شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس جنگ نے نہ صرف ایرانی عوام بلکہ پورے خطے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے اثرات عالمی معیشت، سپلائی چین، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی عالمی ترسیل پر بھی منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ حالیہ امریکا ایران جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات کا دروازہ کھل چکا ہے، اسے دوبارہ بند نہیں ہونا چاہیے۔
بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا درست راستہ ہے جب کہ طاقت کا استعمال ’ڈیڈ اینڈ‘ یعنی تباہ کن راستہ ثابت ہوگا۔ ایک جانب یہ باتیں ہیں تو دوسری جانب ایک پیش رفت سامنے آئی ہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں دو روزہ برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ بیان جاری کیے بغیر ختم ہوگیا ہے، جب سے برکس اتحاد قائم ہوا ہے، ایسی صورت حال کم ہی سامنے آئی ہے۔
مشترکہ اعلامیہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کے بحران پر ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے جاری نہیں ہو سکا ہے۔ بھارت نے اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے کے بجائے چیئر اسٹیٹمنٹ جاری کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران چاہتا تھا کہ برکس امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی اداروں کی سیاست کرنے کے خلاف مزاحمت کریں اور زیادہ مضبوط مؤقف اختیار کریں۔
لیکن متحدہ عرب امارات سمیت بعض ارکان نے اس نقطہ نظر سے اختلاف کیا۔آخر میں انڈیا جس کے پاس اس وقت برکس کی صدارت ہے نے مشترکہ اعلامیے کے بجائے صرف ایک ’چیئرمین کا بیان‘ جاری کیا، یہ اقدام عام طور پر اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب اراکین کسی حتمی متن پر متفق نہیں ہو سکتے۔
انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ’’چیئر اسٹیٹمنٹ ‘‘ میں کہا گیا کہ مغربی ایشیا، مشرق وسطی کے خطے کی صورت حال پر کچھ اراکین کے درمیان مختلف خیالات تھے۔یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ توسیع شدہ برکس، جس میں اب ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں، کو سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر جب اس کے اراکین علاقائی بحرانوں میں مختلف محاذوں پر ہیں۔
بہرحال یہ برکس اتحاد کے لیے ایک دھچکا ہے۔ دوسرا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات میں تجارتی اور مالی مفادات کی اہمیت عسکری، اسٹریٹجک اور باہمی تنازعات کے مقابلے میں بہت نچلے درجے پر ہیں۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی قیادت اپنے باہمی تنازعات کو بھی نپٹانے کے قابل نہیں ہے اور عالمی تنازعات اپنی غیرجانبدارانہ پوزیشن کو برقرار رکھنے میں بھی ناکام نظر آتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی قیادتیں اپنے عوام کے وائٹل انٹرسٹ کے تحفظ کے بجائے گروہی اور مخصوص طبقے کے مفادات کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ تنازعات ترقی پذیر ملکوں کے درمیان ہیں اور ان ہی ملکوں میں باہمی لڑائیاں بھی سب سے زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ اقوام اپنے باہمی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے قابل بھی ہیں اور اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی باہمی تجارتی تعلقات کو برقرار رکھ کر ترقی کے راستے پر گامزن ہیں۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.