Native World News

عابد رضوی بھی رخصت ہوئے

عابد رضوی بھی رخصت ہوئے

میں نے عابد رضوی کو ہمیشہ دھیمے لہجے میں بات کرتے دیکھا

کچھ لوگ زندگی میں شور نہیں مچاتے مگر ان کے چلے جانے کے بعد ایک ایسی خاموشی اترتی ہے جو دیر تک دل پر دستک دیتی رہتی ہے۔ انجمن ترقی اردو پاکستان کے خازن عابد رضوی بھی انھی لوگوں میں سے تھے۔

آج جب اُن کے انتقال کی خبر آئی تو یوں محسوس ہوا جیسے اردو باغ کے کسی پرانے درخت کی ایک شاخ اچانک ٹوٹ گئی ہو، وہ شاخ جس کے سائے میں کئی لوگ بیٹھتے تھے، باتیں کرتے تھے، ہنستے تھے، اختلاف کرتے تھے مگر اُس کی موجودگی سے ایک اطمینان سا رہتا تھا۔

عابد رضوی میرے اردو باغ کے ساتھی تھے۔ عابد صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو وضح دار ہوتے ہیں، پرانے تعلق کو یاد رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کے اردو زبان سے محبت کرتے تھے۔

ہم لوگ اس زمانے کے لوگ ہیں جب کتابیں صرف کاغذ نہیں ہوتی تھیں بلکہ خواب ہوا کرتی تھیں۔ جب رسالوں کی اشاعت ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی تھی۔ جب ادیب اور شاعر صرف لکھنے والے نہیں بلکہ اپنے عہد کے گواہ ہوتے تھے۔

میں نے عابد رضوی کو ہمیشہ دھیمے لہجے میں بات کرتے دیکھا۔ اُن کے چہرے پر ایک ایسی سنجیدگی تھی جس میں تلخی نہیں تھی۔ وہ اُن لوگوں میں سے نہیں تھے جو ہر وقت خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے وہ زیادہ معتبر محسوس ہوتے تھے۔ اُن کے پاس بیٹھ کر لگتا تھا کہ گفتگو ابھی باقی ہے، دنیا ابھی مکمل طور پر بے رحم نہیں ہوئی۔

اردو باغ خود ایک عجب دنیا ہے۔ وہاں کتابوں کی خوشبو میں سیاست بھی گھلی ہوئی تھی، محبت بھی خواب بھی۔ وہ سننے والے انسان تھے، آج کل کی دنیا میں لوگ سننا کم پسند کرتے ہیں اور بولنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور سننے والے لوگ اس دنیا میں کم ہوتے جا رہے ہیں۔

مجھے یاد ہے اردو باغ کی وہ شامیں جب بحث چھڑ جاتی تھی۔ کبھی ترقی پسند تحریک پر، کبھی فیض پر، کبھی جالب پر، کبھی عالمی سیاست پر۔ کچھ لوگ جذبات میں آواز بلند کر لیتے تھے مگر عابد رضوی اپنی جگہ پر پُر سکون بیٹھے رہتے۔ پھر دھیرے سے کوئی جملہ کہتے اور پوری گفتگو کا رخ بدل جاتا۔ اُن کی بات میں شور نہیں ہوتا تھا، وزن ہوتا تھا۔

ادبی حلقے صرف کتابوں سے نہیں بنتے، انسانوں سے بنتے ہیں اور بعض انسان ایک ادارہ ہوتے ہیں۔ وہ خود کوئی بڑا دعویٰ نہیں کرتے مگر اُن کی موجودگی کئی رشتوں کو جوڑے رکھتی ہے۔

عابد رضوی بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ واجد صاحب میرے انجمن اور عابد صاحب کے ادبی دوستوں کے لیے یہ ایک بڑا نقصان ہے۔ جو خلا وہ چھوڑ گئے ہیں اسے پر نہیں کیا جاسکتا۔

یہ اداسی صرف ایک فرد کی موت کی نہیں ایک عہد کے آہستہ آہستہ رخصت ہونے کی اداسی بھی ہے۔ وہ عہد جس میں لوگ تعلق نبھاتے تھے۔ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہتا تھا اور آنکھوں میں مروت باقی تھی۔ اب نہ وہ زمانہ رہا اور نہ وہ لوگ۔ اک عجیب اداسی ہے، سارے دوست اور رفقا جا رہے ہیں، کیا ہی اچھے دن تھے وہ۔

پاکستان کے سابق صدر ممنون حسین کے انتقال کے بعد اردو باغ سے میں، واجد صاحب اور عابد صاحب چند اور ساتھیوں کے ساتھ ان کی قبر پر گئے تھے، وہاں واپسی پہ میں گر گئی اور میرے سر پر چوٹ آئی تھی، وہ بہت پریشان ہوئے تھے اور میرے ساتھ اسپتال گئے تھے۔ انسان کے چلے جانے کے بعد بس یادیں رہ جاتی ہیں اور اس کے کیے اچھے کام۔

اردو زبان محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری تہذیب، تاریخ، شناخت اور فکری روایت کی امین ہے۔ اس زبان کی بقا، ترویج اور نفاذ کے لیے ہر دور میں کچھ ایسی شخصیات سامنے آتی رہی ہیں جو خاموشی سے اپنے حصے کا چراغ جلاتی رہی ہیں۔

عابد رضوی مرحوم بھی انھی باوقار شخصیات میں شامل تھے جنھوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کے فروغ، تحفظ اور نفاذ کے لیے وقف کیے رکھی۔

عابد رضوی انجمن ترقی اردو سے وابستہ رہے اور بطور خازن انھوں نے نہ صرف ادارے کی انتظامی ذمے داریاں نبھائیں بلکہ اردو زبان کے فروغ کو اپنی زندگی کا مشن بنائے رکھا۔

فروغِ اردو کے حوالے سے اُن کا کردار محض رسمی یا نمائشی نہیں تھا بلکہ وہ عملی میدان کے سپاہی تھے۔ وہ ہر اُس علمی، ادبی اور فکری سرگرمی کا حصہ بنتے جو اردو زبان کے استحکام اور نفاذ سے متعلق ہوتی۔

انجمن ترقی اردو میں منعقد ہونے والی ادبی نشستیں، مذاکرے، کانفرنسیں اور اہل قلم کی سرپرستی اُن کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔ اُن کی کوشش ہوتی کہ نئی نسل اردو زبان سے جڑی رہے اور اردو کو محض گھریلو زبان نہیں بلکہ قومی اور علمی زبان کے طور پر فروغ دیا جائے۔

عابد صاحب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اردو کے لیے صرف گفتگو نہیں کرتے تھے بلکہ عملی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔ اُن کے نزدیک نفاذ اردو ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور تہذیبی بقا کا مسئلہ تھا۔

وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ پاکستان کی قومی زبان کو دفتری، تعلیمی اور علمی سطح پر اُس کا جائز مقام ملنا چاہیے۔

انھوں نے انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے بے شمار ادبی شخصیات، اہل ِ قلم محققین اور اردو کارکنان کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا، وہ نوجوان اہل ِ قلم کی حوصلہ افزائی کرتے، ادبی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کرتے اور ہر اُس آواز کا ساتھ دیتے جو اردو کے فروغ کے لیے بلند ہوتی۔

ان کی گفتگو میں مطالعے کی گہرائی بھی تھی اور زندگی کا تجربہ بھی۔ وہ نئی نسل سے بڑی امید رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ نوجوان کتاب،مکالمے اور علمی روایت سے جڑیں۔ بیماری، کمزوری اور قلبی عارضے کے باوجود اُن کی علمی وادبی سرگرمیوں میں کمی نہ آئی۔ یہ اُن کے عزم کی دلیل ہے کہ آخری وقت تک اُن کی فکر کا محور اردو زبان ہی رہی۔

Source: https://www.express.pk/story/2813405/abid-rizvi-also-passed-away-2813405

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.